چھٹی گزارنے ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﻼﻑ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻓﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﮧ ﻣﺴﯿﺞ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻧﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺑﮭﯽ۔ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﺮ.ﺍﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﯾﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔" ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ" :ﺍﯾﮏ ﻧﮑﺘﮧ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔" ﻣﯿﺮﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﻼ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻧﮑﺘﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻓﻮﻥ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﯾﺎ۔ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ۔ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﮧ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺟﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﮑﺮﻭﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺑّﺎ ﺟﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﻏﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺏ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺑﮩﺖ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻧﮑﺘﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ......!!!!
Monday, January 14, 2019
Rabta
Wednesday, December 26, 2018
Djaal
دجال
دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،
رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،
اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا .
۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے ۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے،
کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے ۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہراداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا،
اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا ۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے، باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا ۔
آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے ،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی ا
جازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے،
،چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا ۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے،
دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا ۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔
دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی،
۔اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے ۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے،
امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میںدھاک بٹھا چکا ہو گا اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا ۔
حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے ۔تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے ۔ ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے مصلے کی طرف بڑھیں گے،تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا،
نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر
آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔
پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا ۔
(مسلم، ابن ماجہ، ابوداود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد)
(یادرھے کہ فتنہ دجال سے آگاھی تمام انبیاءعلیھم السلام کی سنت ھے جبکہ آج یہ سنت مٹ چکی ھے
لھٰذااس سنت کوزندہ کرتےھوئے اس پوسٹ کوباربارپڑھیں اوردوسروں تک پہونچائیں )
Thursday, November 8, 2018
Talkh Hqiqt
گرلز پلیز غصہ نہیں کرنا۔۔
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ آذﺍﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ہوﺱ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ہوﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺣﺎﺟﺮﮦ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎ ﻭ ﻣﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ہوس ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ، ﺑﮩﻦ ، ﺑﯿﭩﯽ ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہوﺱ ﮐﺎ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﮐﺮ ﻧﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﯽ، ﺍﺏ ﻗﺼﻮﺭ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮨﯽ۔ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﮩﻦ، ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﮩﻮ، ﺑﯿﻮﯼ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭼﺎﺋﯿﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﺮﺩ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺗﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﻮﮞ ﺑﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﯽ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ..
یہ پیغام میرا ان سب کے لئے ہے جو
کسی کی ماں بہن ہے...✌
Sunday, November 4, 2018
Bano Qudsia
بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون
*مرد_ھوس_کا_پجاری*
*جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے ۔اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے ۔۔۔ پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔ باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔ اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے ۔۔۔ واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے ۔۔۔ ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے ۔۔۔ اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے ۔۔۔ اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''*
*لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے ۔۔۔ اور کیوں نا ھو؟؟*
*کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے ۔۔۔*
*جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں*
*ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے*
*"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو*
*ھم نے سر_بازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"*
2
*مرد*
*میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا اپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاو گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔*
*میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔*
۔ ( *بانو قدسیہ*)
کاپی
Lesson
Monday, October 22, 2018
Kuch yadden
آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے!
📖 غالباً1995 کی بات ہے. میرے ایک دوست نے مجھے ایک عظیم خوشخبری سنائی کہ 3.5 ایم بی کی ہارڈ ڈسک مارکیٹ میں آگئی ہے 😲
مجھے یاد ہے ہم سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔
کیونکہ! آج 100 جی بی والی ڈسک بھی چھوٹی لگتی ہے. وہ *پینٹیم فور جو سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا تھا, آج کسی کو یاد ہی نہیں.
🖥 حالانکہ صرف چھ سات سال پہلے ہم میں سے اکثر کے پاس ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھے, آئے دن پاور فیل ہو جاتی تھی‘ سی ڈی روم خراب ہو جاتی تھی. اُن دنوں کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے ’انجینئرز‘ کہلاتے تھے‘ آج کل مکینک کہلاتے ہیں.
............ تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو فلاپی ڈسک کے بغیر کام نہیں چلتا تھا‘ فلاپی اپنی مرضی کی مالک ہوتی تھی‘ چل گئی تو چل گئی ورنہ میز پر کھٹکاتے رہیں کہ شائد کام بن جائے.
👀 یہ سب کچھ ہم سب نے اپنی آنکھوں کے سامنے تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھا.
🍂 موبل آئل سے موبائل تک کے سفر میں ہم قدیم سے جدید ہوگئے.
🍂 لباس سے کھانے تک ہر چیز بدل گئی لیکن نہیں بدلا تو میتھی والے پراٹھے کاسواد نہیں بدلا.
🍂 شہروں میں زنگر برگر اور فاسٹ فوڈ کی اتنی دوکانیں کھل گئی ہیں کہ آپ اگر مکئی کی روٹی اور ساگ کھانا چاہیں تو ڈھونڈتے رہ جائیں.
🍸 گھروں میں بننے والی لسی اب ریڑھیوں پر آگئی ہے.
👎🏻 شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جس میں سب لوگ ایک ہی وقت میں دستر خوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کرکھانا کھاتے ہوں. فریج میں ہر چیز پڑی ہے‘ جس کا جب جی چاہتا ہے نکالتا ہے اور گرم کر کے کھا لیتا ہے. البتہ باہر جا کر کھانا ہو تو یہ روایت اب بھی برقرار ہے.
👈🏻 جن گھروں کے دروازے رات آٹھ بجے کے بعد بند ہو جایا کرتے تھے, وہ اب رات گیارہ بجے کے بعد کھلتے ہیں اورپوری فیملی ڈنر کھا کر رات ایک بجے واپس پہنچتی ہے.
👎🏻 پورے دن کے لیے واٹر کولر میں دس روپے کی برف ڈالنے کی اب ضرورت نہیں رہی. اب ہر گھر میں فریج ہے‘ فریزر ہے لیکن برف پھر بھی استعمال نہیں ہوتی کیونکہ پانی ٹھنڈا ہوتاہے.
🍂 فریج آیا تو ’چھِکو‘ بھی گیا.
🍂 اب تندور پر روٹیاں لگوانے کے لیے پیڑے گھر سے بنا کر نہیں بھیجے جاتے.
🍂 اب لنڈے کی پرانی پینٹ سے بچوں کے بستے نہیں سلتے‘ مارکیٹ میں ایک سے ایک ڈیزائن والا سکول بیگ دستیاب ہے.
👎🏻 بچے اب ماں باپ کو امی ابو سے زیادہ ’یار‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں.
💡 بلب انرجی سیور میں بدل گئے اور انرجی سیور ایل ای ڈی میں.
👎🏻 چھت پر سونا خواب بن گیا ہے, لہذا اب گھروں میں چارپائیاں بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں.
ڈبل بیڈ ہیں اور ان پر بچھے موٹے موٹے گدے. مسہری اور پلنگ گھر کی سیٹنگ سے میچ نہیں کرتے.
✨ اب بچے سائیکل سیکھنے کے لیے قینچی نہیں چلاتے, کیونکہ ہر عمر کے بچے کے سائز کا سائیکل آچکا ہے.
✨ جن سڑکوں پر تانگے دھول اڑاتے تھے وہاں اب گاڑیاں دھواں اڑاتی ہیں.
💭 کیا زمانہ تھا جب گھروں کے دروازے سارا دن کھلے رہتے تھے, بس آگے ایک بڑی سی چادر کا پردہ لٹکا ہوا ہوتا تھا.
👈🏻 اب تو دن کے وقت بھی بیل ہو تو پہلے سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھنا پڑتا ہے.
☎ شہر سے باہر کال ملانا ہوتی تھی تو لینڈ لائن فون پر پہلے کال بک کروانا پڑتی تھی اور پھر مستقل وہیں موجود رہنا پڑتا تھا. گھنٹے بعد کال ملتی تھی اور کئی دفعہ درمیان میں آپریٹر بھی مداخلت کر دیتا تھا کہ تین منٹ ہونے والے ہیں.
⌚ سعودیہ وغیرہ سے کوئی عزیز پاکستان آتا تھا, تو گفٹ کے طور پر ’گھڑیاں‘ ضرور لے کر آتا تھا.
🌾 واک مین بھی ختم ہوگئے‘ پانی کے ٹب میں موم بتی سے چلنے والی کشتی بھی نہیں رہی.
❄ پانی کی ٹینکیوں کا رواج چلا تو گھر کا ہینڈ پمپ بھی ’بوکی‘ سمیت رخصت ہوا.
👎🏻 واش بیسن آیا تو ’ کھُرے‘ بنانے کی بھی ضرورت نہیں رہی.
☕ چائے پیالی سے نکل کر کپ میں قید ہوگئی.
🚬 سگریٹ آیا تو حقے کا خاتمہ کر گیا‘ اب شائد ہی کسی گھر میں کوئی حقہ تازہ ہوتا ہو.
✨ میں نے ہمیشہ ماں جی کو پرانے کپڑوں اور ٹاکیوں کو اکھٹا کرکے تکیے میں بھرتے دیکھا.
📖 تب ایسا ہی ہوتا تھا. اب نہیں ہوتا‘ اب مختلف میٹریلز کے بنے بنائے تکیے ملتے ہیں اور پسند بھی کیے جاتے ہیں.
👚 پہلے مائیں خود بچوں کے کپڑے سیتی تھیں‘ بازار سے اون کے گولے منگوا کر سارا دن جرسیاں بنتی تھیں‘ اب نہیں... بالکل نہیں‘ ایک سے ایک جرسی بازار میں موجود ہے‘ سستی بھی‘ مہنگی بھی۔
📜 پہلے کسی کو اُستاد بنایا جاتا تھا‘ اب اُستاد مانا جاتا ہے.
📺 پہلے سب مل کر ٹی وی دیکھتے تھے‘ اب اگر گھر میں ایک ٹی وی بھی ہے تو اُس کے دیکھنے والوں کے اوقات مختلف ہیں. دن میں خواتین Repeat ٹیلی کاسٹ میں ڈرامے دیکھ لیتی ہیں‘ شام کو مرد نیوز چینل سے دل بہلا لیتے ہیں.
📰 معصومیت بھرے پرانے دور میں الماریوں میں اخبارات بھی انگریزی بچھائے جاتے تھے کہ ان میں مقدس کتابوں کے حوالے نہیں ہوتے.
💔 چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی پر بھی کوئی نہ کوئی سنا سنایا خوف آڑے آجاتا تھا.
♨ زمین پر نمک یا مرچیں گر جاتی تھیں تو ہوش و حواس اڑ جاتے تھے کہ قیامت والے دن آنکھوں سے اُٹھانی پڑیں گی.
💰 گداگروں کو پورا محلہ جانتا تھا اور گھروں میں ان کے لیے خصوصی طور پر کھلے پیسے رکھے جاتے تھے.
✉ گھروں میں خط آتے تھے اور جو لوگ پڑھنا نہیں جانتے تھے وہ ڈاکئے سے خط پڑھواتے تھے. ڈاکیا تو گویا گھر کا ایک فرد شمار ہوتا تھا ‘ خط لکھ بھی دیتا تھا‘ پڑھ بھی دیتا تھا اور لسی پانی پی کر سائیکل پر یہ جا وہ جا.
💌 امتحانات کا نتیجہ آنا ہوتا تھا تو ’نصر من اللہ وفتح قریب‘ پڑھ کر گھر سے نکلتے تھے اور خوشی خوشی پاس ہوکر آجاتے تھے.
👆🏻 یہ وہ دور تھا جب لوگ کسی کی بات سمجھ کر ’’اوکے‘‘ نہیں ’’ٹھیک ہے‘‘ کہا کرتے تھے.
✨ موت والے گھر میں سب محلے دار سچے دل سے روتے تھے اور خوشی والے گھر میں حقیقی قہقہے لگاتے تھے.
🍂 ہر ہمسایہ اپنے گھر سے سالن کی ایک پلیٹ ساتھ والوں کو بھیجتا تھا اور اُدھر سے بھی پلیٹ خالی نہیں آتی تھی.
🍨 میٹھے کی تین ہی اقسام تھیں... حلوہ، زردہ چاول اور کھیر.
🍦 آئس کریم دُکانوں سے نہیں لکڑی کی بنی ریڑھیوں سے ملتی تھی جو میوزک نہیں بجاتی تھیں.
❄ گلی گلی میں سائیکل کے مکینک موجود تھے جہاں کوئی نہ کوئی محلے دار قمیص کا کونا منہ میں دبائے ‘ پمپ سے سائیکل میں ہوا بھرتا نظر آتا تھا.
✨ نیاز بٹتی تھی تو سب سے پہلا حق بچوں کا ہوتا تھا.
🌾 ہر دوسرے دن کسی نہ کسی گلی کے کونے سے آواز آجاتی ’’کڑیو‘ منڈیو‘ شے ونڈی دی لے جاؤ‘۔ اور آن کی آن میں بچوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا اور کئی آوازیں سنائی دیتیں ’’میرے بھائی دا حصہ وی دے دیو‘.
🥡 دودھ کے پیکٹ اور دُکانیں تو بہت بعد میں وجود میں آئیں‘ پہلے تو لوگ ’بھانے‘ سے دودھ لینے جاتے تھے.
💞 گفتگو ہی گفتگو تھی‘ باتیں ہی باتیں تھیں‘ وقت ہی وقت تھا.
♻ گلیوں میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہیں‘ محلے کے بابے حقے پی رہے ہیں اور پرانے بزرگوں کے واقعات بیان ہورہے ہیں.
📺 جن کے گھر وں میں ٹی وی آچکا تھا انہوں نے اپنے دروازے محلے کے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلے رکھے.
🎈 مٹی کا لیپ کی ہوئی چھت کے نیچے چلتا ہوا پنکھا سخت گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا دیتا تھا.
لیکن... پھر اچانک سب کچھ بدل گیا.
💔💘 ہم قدیم سے جدید ہوگئے.
👎🏻 اب باورچی خانہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں ہوتا.
📌 کھانا بیٹھ کر نہیں پکایا جاتا. دستر خوان شائد ہی کوئی استعمال کرتا ہو.
📌 منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کے سفر میں ہم نے ہر چیز بہتر سے بہتر کرلی ہے
لیکن!
پتا نہیں کیوں اس قدر سہولتوں کے باوجود
ہمیں...
گھر میں
ایک ایسا ڈبہ
ضرور رکھنا پڑتا ہے
جس میں
ڈپریشن‘ سردرد‘
بلڈ پریشر‘ نیند اور وٹامنز
کی گولیاں
ہر وقت موجود ہوں۔۔۔!!!
بشکریہ وٹس اپ
Sunday, October 14, 2018
Apni Pehchn
وہ جیسے ہی گاوں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر
اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے
تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نےپہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا
اس دانا شخص نے گاوں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں
اس گاوں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا
یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا
وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا
وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اس کہتا کہہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو
آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا
باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگا
جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا
وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا
کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا
تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا
یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا
یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے
ہماری ایک خاص شناخت ہے
Saturday, October 6, 2018
گلزار صاحب 👉
ویسے تو دینے سے نکلا کب تھا ؟ اس بڑھاپے میں بھی جب تو ممبئی کے باندرہ جمخانے میں ہر صبح ٹینس کی بال اچھالتا ہے سچی سچی بتا نیٹ کے دوسری طرف دینہ کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟
یارو او گھر کیہڑا
لوکاں توں پچھدا پھرے
جھلا ہسدا پھرے ، جھلا روندا پھرے
جھلا گلی گلی رلدا پھرے۔
مسافر ہوں میں یارو
نا گھر ہے نا ٹھکانہ
مجھے چلتے جانا ہے بس ۔۔۔
چلتے جانا۔۔۔۔۔
او ماجھی رے ۔۔۔۔
اپنا کنارہ
ندیا کی دھارا ہے۔۔۔
تجھ سے ناراض نہیں ہوں زندگی
حیران ہوں میں ۔۔پریشان ہوں میں۔۔
قطرہ قطرہ ملتی ہے
قطرہ قطرہ جینے دو
زندگی ہے پینے دو
پیاسی ہوں میں پیاسی رہنے دو۔۔۔۔
تجھے اب دینے جانے کی آخر کیا ضرورت پڑ گئی تھی ؟ وہاں کیا دھرا ہے ؟ ہوگیا نا ایک دفعہ پیدا تو ، ہوگئی ایک دفعہ پارٹیشن ، دھکیل دیا گیا تیرے جیسے لاکھوں خاندانوں کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ۔اب کیوں اپنے اور دوسروں کے زخموں کو کریدنے کے شوق میں مرا جارہا ہے۔۔۔۔
سات دن تجھے رہنا تھا پاکستان میں۔۔رہتا لاہور کے ہیپی گو لکیوں کے درمیان اور کراچی کے ادب میلے میں اور پھر بند گھروں میں عیاشی کے ساتھ ۔۔دیتا اپنے مرضی کے چینلوں کو انٹرویو۔۔۔کرتا میٹھی میٹھی ملاؤنی باتیں۔۔۔اور سوار ہوجاتا جہاز میں نم آلود آنکھوں کے ساتھ یہاں کی آْؤ بھگت کی تعریفیں کرتے کرتے۔۔
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
بند آنکھوں سے روز سرحد پار چلا جاتا ہوں
سپنوں کی سرحد کوئی نہیں۔۔۔۔
تیرا کیا خیال تھا کہ وہاں جو بچے تیرے ساتھ لکن میٹی کھیلتے تھے ان کی عمریں منجمد ہو چکی ہوں گی؟ وہ درخت جنہیں تیرا نام یاد تھا ان کی یاداشت اور بینائی آج بھی تازہ ہوگی؟ جس آنگن میں تو دوڑتا تھا اس کی اینٹوں کا رنگ ویسا ہی لال لال ہوگا ؟ جس کمرے کی دیواریں تیری سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کی ڈانٹ اور پیار سے تیرے باوا نے گوندھی تھیں ان کا پلستر وہیں کا وہیں جما ہوگا ؟؟۔۔۔۔۔
یار سردار جی تجھے اتنی سی بات پلے نہیں پڑی کہ جس جگہ کو چھوڑ دو اس کی طرف مت لوٹو ۔کہیں وہ تصویر بھی برباد نہ ہوجائے جو دل کے ڈرائنگ روم میں یاد کی کیل سے ٹنگی ہے۔
اب تو اچھا رہا۔۔۔۔دل کا دینہ بھی تیرے ہاتھ سے گیا ۔۔۔۔
سمپورن سنگھ ایک تو مجھے تیری آج تک سمجھ نہیں آئی ۔ایک طرف یہ مصرعہ لکھتا ہے کہ،
پتہ ہے کیا؟ اب میں تجھے تھوڑا تھوڑا سمجھنے لگا ہوں ۔۔۔تو ہنسنے ، رونے ، چیخنے والا جھلا بالکل نہیں۔تو ایک اذیت پرست آدمی ہے۔۔۔تو وہاں اس لیے گیا تھا کہ غم و اندوہ ، ٹوٹ پھوٹ کا تازہ سٹاک مل جائے اور پھر تو اس خام مال سے باقی زندگی نغماتی و نثری بت تراشے۔۔۔یہ تم جیسے تخلیق کاروں کی بڑی پرانی ٹکنیک ہے۔۔۔۔
دیکھ اگر تو اپنی خود غرضی کی قربانی دے دیتا اور دینہ نا جاتا تو کتنے ہزار لوگ تجھے لاہور اور کراچی میں دیکھ کر ، سن کر اور سوچ کر گلزار ہوجاتے۔۔۔مگر تو نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ اب تو کہہ رہا ہے کہ جلد پاکستان واپس آئے گا ۔۔۔۔۔یار سمپورن اپنی عمردیکھ اور اپنے وعدے دیکھ۔۔۔۔
_____
وسعت اللہ خان