Wednesday, January 16, 2019

Tax خور Army

ٹیکس خور فوج۔۔۔!!
تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

ہمارے ٹیکسوں پر پلتی فوج۔۔ہمارے ٹیکسوں سے لی گئی بندوقیں۔۔ہمارے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتی فوج۔۔ہمارے ٹیکس،ہمارے ٹیکسوں وغیرہ وغیرہ
یہ گردان عام سنی ہوگی آپ نے مگر حساب نہیں کیا ہوگا۔۔چنانچہ آج میں نے سوچا آپ احباب کے سامنے افواج کی ٹیکس خوری کا بھانڈہ پھوڑ ہی دوں۔۔۔!!

پہلے پہلے تو یہ بھی رٹ لگائی گئی تھی کافی عرصہ کہ فوج 70 سے 80 پرسنٹ بجٹ کھا جاتی ملک کا۔۔خیر جب اس چول کے جواب میں ان دانشور حضرات کو فگرز نکال کر دکھائے گئے تو بوتھا شریف بند ہو گیا۔۔کیونکہ لیٹیسٹ بجٹ میں تمام تر انکریمنٹ لگنے کے بعد بھی ٹوٹل کا 18 پرسنٹ تھا جو دفاعی بجٹ کے لیئے مختص کیا گیا۔۔۔۔چلیں اسی کو لے کر چلتے ہیں کہ ان 18 سے کیا کیا گلچھرے اڑاتی یہ فوج کیا کرتی ان 18 روپے میں۔۔

8 لاکھ فوج کی نقل و حرکت کے لیئے گاڑیاں ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کا فیول ان 18 روپے میں
ہزاروں گاڑیوں کی مینٹینس/ریپیرنگ ان 18 روپے میں
میڈیکل ان 18 روپے میں
ادوایات ان 18 روپے میں
مشینری ان 18 روپے میں
میزائل ان 18 روپے میں
راکٹ ان 18 روپے میں
بمب ان 18 روپے میں
بندوقیں ان 18 روپے میں
گولیاں ان 18 روپے میں
ٹینک ان 18 روپے میں
توپیں ان 18 روپے میں
مارٹر ان 18 روپے میں
رہائیشیں ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کا کھانا پینا ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کی رہائش ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوج کے یونیفارم ان 18 روپے میں
بیرکوں/کیمپوں کی تعمیر و مرمت ان 18 روپے میں
فوجی دفتروں کی کرسی سے لے کر پینسل تک تمام فرنیچر ان 18 روپے میں سٹشنری ان 18 روپے میں
تمام تر فوجی جوانوں کی زمینی،ہوائی اور بحری ٹریننگ ان 18 روپے میں
موبائل اور فیلڈ فون سے لے کے واکی ٹاکی تک ساری کمیونیکیشن ان 18 روپے میں
سٹیمپ سے لے کر کمپیوٹرز تک کا سامان ان 18 روپے میں
فائیٹر جیٹ ان 18 روپے میں
گن شپ ہیلی کاپٹر ان 18 روپے میں
بحری جہاز تک ان 18 روپے میں
ان سب کا فیول ان 18 روپے میں
فوجی بیسز،رن وے، ہیڈ کوارٹرز تمام تر انفراسٹرکچر ان 18 روپے میں
انٹیلیجنس کے سیٹ اپ ان 18 روپے میں
ایجنسیز کا خر،چہ ان 18 روپے میں
بیرون ملکی کورسز ان 18 روپے میں
8 لاکھ فوجیوں کی تنخواہیں ان 18 روپے میں

اچھا سنیئے سنیئے۔۔۔یہ کچھ بھی نہیں بخدا یہ کچھ بھی نہیں یہ وہ تھا جو بچہ بچہ جانتا،یہ وہ تھا جو ایک ایک سویلین جانتا ہے،فوج کے خرچے دفاع کے خرچے کیا ہیں،ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کیسے ہوتی ہم کیا جانیں،تم کیا جانو۔۔۔تم دو ٹکے کے فیسبکی دانشوڑ جسے فوجی ٹریننگ کے دوران تیس سیکنڈ میں ضائع ہو جانے والے پیراشوٹ کی قیمت تک نہیں معلوم تم کیا جج کرو گے،وطن عزیز کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو ایٹمی اثاثوں کی حفاظت پر آنے والے خرچ کو۔۔اچھا چھوڈو خرچ کو، خرچے کو تمہاری اتنی اوقات نہیں کہ تمہیں بتایا جائے تمہیں حساب دیا جائے۔۔۔

بات کرتے ہیں کام کی سروس کی،فوج کیا کرتی۔۔۔
فوج بارڈ پر کھڑی۔۔
فوج سمندر میں اتری۔۔
فوج فضا میں بلند۔۔
فوج سیاچن کی بلند وبالا چوٹیوں پر
فوج سبی کی کی تپتی ہوئی دھوپ میں
دہشتگردوں کے خلاف جانیں گنواتی یہ فوج
انڈیا،امریکہ،اسرائیل کے خلاف محاذ آرا یہ فوج
عالمی صیہونی طاقتوں کے نشانے پر یہ فوج
سر زمین پاک کے اٹیمی اثاثوں کی حفاظت کرتی یہ فوج
جن سیاستدانوں کے تم تلوے چاٹتے ان کی محافظ یہ فوج
آپریشن ضرب عضب میں جانیں دیتی یہ فوج
آپریشن راہ نجات میں قربان ہوتی یہ فوج
آپریشن خیبر ون،ٹو،تھری،فور کرتی یہ فوج
آپریشن رد الفساد میں لڑتی یہ فوج
زلزلے میں فوج
سیلاب میں فوج
بارشوں میں فوج
طوفان میں فوج
حادثات میں فوج
الیکشن میں فوج
مردم شماری میں فوج
ریسکیو میں فوج
پھر بھی تم بکواس کرتے ہو فوجی پر،،
اس فوجی پرجو اپنی خوشیاں قربان کرتا ہے
اس فوجی پر جو ہر عید، شب برات میں سرحد پر کھڑا ہوتا
اس فوجی پر جسکو اپنی شادی کے لیئے بھی تین چھٹیاں ملتیں
اس فوجی پر جس کی منکوحہ بیوی سے پہلے بیوہ کہلانے لگی
اس فوجی پر جو تمہارے بچوں کی حفاظت کے لیئے 6 6 مہینے اپنے بچے کا چہرہ نہیں دیکھتا۔۔۔
تم بکواس کرتے ہو ان فوجیوں پر جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کے ایک ایک دن کی تنخواہ اس پاک سر زمین کے نام کی۔۔کہ کل تمہارے بچے پیاسے نہ مریں۔۔۔یہ کرتی فوج تمہارے ٹیکسوں سے۔۔۔

یہ ہے فوج۔۔۔!!جس پر تم بھونکتے کیونکہ تم 18 روپے دیتے ہو۔۔؟
نہیں ہر گز نہیں تم بھونکتے ہو،کیونکہ تمہیں اس بھونکنے پر ہڈی ڈالی جاتی ہے،اور سن لو انسان نما کتو مجھ ماسٹر محمد فہیم امتیاز سمیت ہر غیرت مند پاکستانی کی للکار سن لو ہماری کھلی جنگ ہے تم تمام سے جو بکواس کرتے دین حق پر،وطن عزیز پر اور اس پاک سر زمین کے بہادر سپوتوں یعنی افواج پاک پر اور ہاں یہ 18 روپے (18پرسنٹ) دے کر احسان نہیں کر رہے تم ایسے ہی جیسے باقی کے 82 روپے دے کر احسان نہیں کر رہے،،ذرا مانگو نہ ان 82 روپوں کا حساب۔۔۔وہ بھی تو تمہارے ٹیکسز ہیں۔۔۔

82 روپے جو تم سیاستدانوں کو دیتے ہو
جن کے بدلے وہ تمہارے بچوں کو گاڑیوں تلے روند جاتے۔۔جن کے بدلے وہ تمہارے زمینوں پر قبضے کر لیتے،،جن کے بدلے وہ تمہیں میں سے کئیوں کی بہن بیٹیوں کی عزتوں کو نوچ جاتے۔۔جن 82 روپے سے وہ کنالوں کے بنگلوں میں اپنی نسلوں کو عیش کرواتے۔۔جن کے بدلے وہ سالوں پوری دنیا میں عیاشیاں کرتے۔۔جس 82 پرسنٹ سے اربوں کھربوں کی جائیدادیں بناتے۔۔ادر تو تم لیٹ جاتے ہو ان کے سامنے تو تشریف رگڑتے ہو وہ تمہیں کتے کی طرح ذلیل کرتے اور تم سب جیئے جیئے کے نعرے لگاتے تمہارا بس نہیں چلتا کہ گلے میں پٹہ ڈال کر ان سیاستدانوں کے پیچھے پیچھے دم ہلاتے پھرو۔۔۔

تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو بیوروکریٹس کو دیتے۔جو تمہاری زمینوں میں کروڑوں کا غبن کرتے،جو تحصیلدار سارا سارا دن آفس میں بٹھا کے ذلیل کرتے،،جو کلرک دفتروں میں تم سے ہزاروں کی رشوت لیتے وہاں کیوں نہیں یاد آتا تمہیں ٹیکس وہاں کیوں کتے کی طرح زبان نکلی ہوئی ہوتی ہے تمہاری۔۔۔۔

تم حساب لو نہ ان 82 روپوں کا جو ڈاکٹروں کو دیتے
اس ڈاکٹر کو جس کے تم پاوں پڑتے ہو کہ آخری سانسوں پر اٹکے تمہارے بچے کو دیکھ لے اور وہ ٹھوکر مار کے کہتا میرے کلینک پر لے آو یا مرو۔۔

تم حساب لو نہ ان 82 روپے کا جو دیتے ہو پولیس والوں کو
ان میں وہ پولیس والے بھی ہوتے جو تم پر ناجائز مقدمات بناتے،جو تمہارے بوڈھے باپ کو گھر سے اٹھا کے لے جاتے،جو جھوٹے کیس بنا کے تشدد کرتے۔۔جو لاکھوں کی رشوت لے کر بھی سالوں تک ذلیل کرتے۔۔وہاں تو تمہاری صاب جی صاب جی بند نہیں ہوتی۔۔ان کے سامنے تو رالیں ٹپکا رہے ہوتے ہو۔۔ان کے سامنے تو جی حضوری ایسی جیسے باپ بنا لیا ہو انہیں۔۔ذرا کرو نہ بات ٹیکسز کی۔۔۔!!
(پورا محکمہ برا نہیں گندے انڈے ٹارگٹ ہیں)

چلیں چھوڈیں۔۔۔۔بات جو نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔۔۔
ختم کرتا ہوں مگر جاتے جاتے یہ بتا دوں کہ تم جن 18 روپے پر اچھلتے رہتے ہو وہ جنرل باجوہ کو نہیں دیتے، کہ لو باجوہ صاحب بانٹ دیں۔۔وہ بھی تم انہیں سیاستدانوں کو دیتے ہو جن کے دن رات تلوے چاٹتے ہو،،وزارت دفاع کو دیتے ہو،انہیں سیاستدانوں کو جنہیں باقی کے 82 روپے دیتے ہو اور دینے کے بعد الٹے لیٹ جاتے ہو۔۔۔

لیکن اب بس۔۔اب تمہاری بکواسات سننے والا کوئی نہیں کیونکہ یہ عوام پہچان چکی ہے اپنے محسنوں کو،اپنے محافظوں کو۔۔افواج پاک کو۔۔اور ان کے اندر موجزن پاک سرزمین کی محبت کو۔۔

پاکستان زندہ باد
افواج پاک ہمیشہ پائندہ باد

Tuesday, January 15, 2019

Ek Swall

آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے؟ میں گھر کی طرف قدم بڑھا رہا تھا اچانک ایک آواز سماعت سے ٹکرائی،میں رکا پیچھے مڑ کر دیکھا ایک اکیس بائیس سال کا نوجوان تھا، جی!بتائیں کیا بات ہے؟ میں رک گیا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا۔ اگر سوال کروں تو بُرا تو محسوس نہیں کریں گے؟ اس نوجوان نے مزید قریب ہو کر پوچھا نہیں بالکل نہیں آپ پوچھیں،اگر جواب آتا ہوا ضرور دوں گا ورنہ کسی سے پوچھ کر بتا دوں گا،میں نے اسے اعتماد میں لیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ اسے جہاں تک ہوسکے رہنمائی دوں۔ میں کیسے پتہ چلا سکتا ہوں کہ اللہ میرے قریب ہے؟اس نے قدرے دھیمے لہجے میں پوچھا، اگر آپ کچھ وضاحت کریں تو شاید بات میں سمجھ سکوں،میں اسے کریدنا چاہتا تھا دیکھیں ناں،میں نماز جہاں تک ہوسکے پڑھتا ہوں،روزے بھی رکھتا ہوں اور صدقہ بھی اکثر دیتا ہوں مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی مانگنے والے کو جھڑکا ہو،بعض اوقات تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آنکھیں بھی نم ہو جاتی ہیں مگر۔۔۔۔۔۔ وہ خاموش ہوا اور پھر گویا ہوا، مگر پتہ نہیں ،یوں لگتا ہے کہ جیسے اللہ ناراض ہے،اللہ میری سنتا نہیں،یوں لگتا ہے میرے اعمال بس کھوکھلے ہو چکیں ہیں ،میں جتنا آگے جاتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ اتنا ہی پیچھے آرہا ہوں،میں بہت پریشان ہوں،اور یہ پریشانی اب عبادات میں بھی خلل ڈال رہی ہیں۔۔ میں غور سے آنکھیں نیچی کرکے باتیں سن رہا تھا کہ اچانک،یوں لگا یہ نوجوان اندر سے بُری طرح ٹوٹ چکا تھا،میں نے ایک سوال کیا۔ اچھا مجھے یہ بتاؤ خلل کیسا؟ بس یہی ، کہ خیال آتا ہے کہ اب عبادت کرنے کا کیا فائدہ،اب دعائیں مانگنے کا کیا فائدہ،یہ خیالات اب عبادت کرنے میں خلل ڈالتے ہیں، اس نے وضاحت کی، میں نے بات شروع کی، بھئی! ایک بات تو آپ سمجھتے ہو ناں؟ کہ چور اُسی جگہ جاتا ہے جہاں دولت ہوتی ہے، جی ایسا ہی ہے،اس نے جوا ب دیا میں مخاطب ہوا، تو سمجھو !کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دل میں ایمان ہے ،شیطان اسی کے دل پر حملہ کرتا ہے اور اسی کو بہکاتا ہے جس کے دل میں ایمان کی رمق بھی ہو، اب آپ کا اگلا سوال کہ اللہ کی قربت کا کیسے پتہ چلے گا، تو بھئی! یہ مت دیکھو اللہ رب العزت کتنا قریب ہے بلکہ یہ دیکھو ہم کتنے قریب ہیں، جتنا ہم اللہ رب العزت کے قریب ہوں گے وہ ذات بھی اسی طرح ہمارے قریب ہوگی اور اس ذات کی عبادت ہی اس کے قرب کا احساس ہے، تو آپ کا نماز پڑھنا،روزہ رکھنا اور اس سے مانگنا یہ اس کے قرب کی نشانی ہے،یاد رکھیں جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو سب سے پہلے عبادات سے غافل کر دیتا ہے،اپنے سامنے جھکنے سے غافل کر دیتا ہے،آپ خود دیکھیں جب آپ نماز کے لیے جارہے ہوں تو کتنے لوگ اپنے دنیاوی کاموں میں لگے ہوں گے ،تو سوچیں اس رب نے آپ کو ہی کیوں چُنا؟۔کیونکہ کیونکہ وہ آپ کے قریب ہے،اسے ہماری عبادات کی ضرورت نہیں بلکہ ضرورت تو ہمیں اس ذات کی عبادت کی ہے، میں نے بات مکمل کی،اور آخر میں ایک سوال پوچھا دیکھو اگر تم اپنی ماں کا کہا مانو گے تو کیا خیال ہے اس کی محبت کم ہوگی یا زیادہ؟ ظاہر ہی محبت زیادہ ہوگی،اس نے فوراً جواب دیا، تو میرے بھائی وہ اللہ رب العزت تو ستر ماؤں جتنا پیار لیے ہوئے ہیں تو وہ ذات کسیے دور ہوگی؟ میں خاموش ہوا،اچانک دیکھا وہ نوجوان سلام کرکے دوبارہ مسجد کی طرف چل پڑا۔۔!!

Monday, January 14, 2019

Muhabbt

       کیوں تلاش ہے تجھے محبت کی محبت اپنے اسرار کسی کو نہیں بتاتی یہ وہ داستاں ہے جو انکھیں بیاں کرتیں الفاظ ساتھ نہیں دیتے اس کا ہر انداز الگ اس کا ہر بیاں دوسرے سے جدا اس کا درد انسو بن کر بہہ سکتا یا لبوں پر مسکراہٹ بن کر بکھر سکتا پر کچھ لمحوں کے لیے یہ ہمیشہ کسی کی نہیں رہتی اس کا حاصل اگر لا حاصل سے خوبصورت تو اس کا لا حاصل انسان کو ان جذبوں سے اشنا کرواتا جن ہر لب اپنی مہر ثبت کرتے
     ہر انسان کو دوسرے سے محبت کی تلاش پر اے انساں تجھے صرف محبت نہیں چاہیے تجھے وہ محبت چاہیے جو تجھے تجھ سمیت قبول کرے جو تجھے تیرےاندا سے چاہے جب جس لمحے تجھے جس کی ضرورت وہ لمحہ چاہتا ہے تو بھٹک رہا ہے تو صحرا کے ویرانوں میں سمندر کی ہر لہر کے ساتھ کنارے کی طرف بھاگ رہا ہے تو بھنور کا ڈر ہے تجھے اے انسان اس درد کی دنیا میں ڈوب کر دیکھ تو سہی کیا کیا راز پنہاں ہیں اس درد کی دنیا میں
       ہر لمحے اس ہر پل اک امید انکھوں میں لیے انسان ان راہوں پر چلتا جس پر اس درد کو قرار میسر ہو کتنا خود کو ارزاں کر رہا اپنی ہی تسکیں کے لیے اپنی قیمت دوسرے سے لگوا رہا اے انساں تیری قیمت تیرا اپنا.وجود ہی بتائے گا تیری قیمت تیرا بنانے والا لگا چکا مت دے ترازو دوسرے کے ہاتھ میں جو تجھے ہر نظر سے تول رہا بس انسان کو وہی چاہیے جو اسے حاصل نہیں چاہے قیمت اس کی ذات ہی کیوں نہ ہو پھیلائے بیٹھا ہے یہ جھولی کہ کب کون اس کی جھولی میں اس کی خواہشوں کے سکے ڈالے
         ہر در پر دستک دینے والے اے نادان اگر تجھے محبت مل گئی تو مجھ سے ضرور ملوانا بتانا کہ کوئی تیرا پتہ پوچھ رہا تھا تیرا ٹھکانہ کہاں ہے تیری قیمت کیا ہے ان سوالوں کے جوابوں کی تلاش ہے مجھے بہت انتظار اس لمحے کا جب کوئی یہ بتائے کہ محبت کو اپنا انجام مل گیا یہ بغیر قیمت ادا کیے کسی کی ہو گئی اور اسے ہمیشہ کے لیے ٹھکانہ مل گیا
         یہاں تو ہر انساں اپنی ہی داستاں بیاں کر رہا کسی میں اتنی وسعت نہیں کہ دوسرے کو پناہ مل سکے بنانے والے نے صرف اک دروازہ رکھا جو انساں سے ہو کر عشق الہی کی طرف کھلتا جو لمحوں کا ساتھی وہ اس دروازے میں رک جاتا اور جو دائمی خوشی چاہتا وہ اس دروازے سے گزر جاتا
       بس تجھے اس دروازے سے گزرنا ہے اے انساں راہ میں بہت در ا گئے کچھ لمحوں کے لیے وقت رک بھی گیا پر تیری اپنی ذات تجھے پناہ نہ دے سکی انسان کی محبت میں وہ وسعت نہیں جو ایک انساں کو مکمل کر سکے وہ اس کو اور پیاس دے کر کسی اور کہ در پر اواز لگاتی بھٹک رہا ہے اج کا انساں جس دن اپنی کہانی کا انجام اپنے لکھنے والے کے ہاتھ سونپ دے گا اس دن محبت اس کہ در پر دستک دے گی اس انداز سے جس طرح اس نے چاہا تھا
  محبت کے ہیں خریدار بہت تم عشق کی بات کرتے ہو
ہم اپنی قیمت نہ لگا سکے تم کس کی بات کرتے ہو
ہم نے دیکھی ہے چاہت گلیوں میں رسوا ہوتے ہوے
تم کس وفا کی بات کرتے ہو.

Rabta

چھٹی گزارنے ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺧﻼﻑ ﺗﻮﻗﻊ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻓﻮﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﮧ ﻣﺴﯿﺞ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻧﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﻦ ﺑﮭﯽ۔ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﺮ.ﺍﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ “ﯾﮧ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ۔" ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ" :ﺍﯾﮏ ﻧﮑﺘﮧ ﺑﮍﯼ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﭘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔" ﻣﯿﺮﯼ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﻼ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﻧﮑﺘﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﮐﻮ ﺳﻤﺎﺭﭦ ﻓﻮﻥ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺁﯾﺎ۔ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺗﻔﺼﯿﻼﺕ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺘﻔﯿﺪ ﮨﻮﺳﮑﯿﮟ۔ ﺍﺑّﺎﺟﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺱ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﭘﮧ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺟﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻥ ﺭﺍﺑﻄﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﺎﻣﺎﺕ ﺑﮩﺖ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﮑﺮﻭﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﭘﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺑّﺎ ﺟﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، ﺗﻢ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﭘﮧ ﻏﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺏ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺑﮩﺖ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﻧﮑﺘﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻟﺴﭧ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﭘﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ......!!!!

Wednesday, December 26, 2018

Djaal

دجال

دجال یہودیوں کی نسل سے ہوگا جس کا قد ٹھگنا ہو گا ،دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو نگے ۔ جسم پر بالوں کی بھر مار ہوگی ،

رنگ سرخ یا گندمی ہو گا سر کے بال حبشیوں کی طرح ہونگے،ناک چونچ کی طرح ہو گی، بائیں آنکھ سے کانا ہو گا دائیں آنکھ میں انگور کے بقدر ناخنہ ہو گا۔ اس کے ماتھے پر ک، ا، ف، ر لکھا ہوگا، جسے ہر مسلمان بآسانی پڑھ سکے گا ،

اس کی آنکھ سوئی ہوگی مگر دل جاگتا رہے گا شروع میں وہ ایمان واصلاح کا دعویٰ لے کر اٹھے گا، لیکن جیسے ہی تھوڑے بہت متبعین میسر ہوں گے وہ نبوت اور پھر خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ اس کی سواری بھی اتنی بڑی ہو گی کہ اسکے دونوں کانوں کا درمیانی فاصلہ ہی چالیس گز کاہو گا .

۔ایک قدم تاحد نگاہ مسافت کو طے کرلے گا دجال پکا جھوٹا اور اعلی درجہ کا شعبدے باز ہو گا، اس کے پاس غلوں کے ڈھیر اور پانی کی نہریں ہو نگی، زمین میں مدفون تمام خزانے باہر نکل کر شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے ساتھ ہولیں گے ۔جو قبیلہ اس کی خدائی پر ایمان لائے گادجال اس پر بارش برسائے گا جس کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں ابل پڑیں گے،درختوں پر پھل آجائیں گے،

کچھ لوگوں سے آکر کہے گا کہ اگر میں تمہارے ماں باپوں کو زندہ کر دوں تو تم کیا میری خدائی کا اقرار کرو گے؟ لوگ اثبات میں جواب دیں گے ۔اب دجال کے شیطان ان لوگوں کے ماں باپوں کی شکل لے کر نمودار ہوں گے نتیجتاً بہت سے افراد ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ اس کی رفتار آندھیوں سے زیادہ تیز اور بالوں کی طرح رواں ہو گی، وہ کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو لے کر دنیا کے ہر ہر چپہ کو روندے گا، تمام دشمنانِ اسلام اور دنیا بھر کے یہودی امت مسلمہ کے بغض میں اس کی پشت پناہی کر رہے ہوں گے۔ وہ مکہ معظمہ میں گھسنا چاہے گا مگر فرشتوں کی پہراداری کی وجہ سے ادھر گھس نہ پائے گا اس لئے نامراد وذلیل ہو کر واپس مدینہ منورہ کا رخ کرے گا،

اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر فرشتوں کا پہرا ہو گا ۔ لہذا یہاں پر بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔انہی دنوں مدینہ منورہ میں تین مرتبہ زلزلہ آئے گا جس سے گھبرا کر بہت سارے بے دین شہر سے نکل کر بھاگ نکلیں گے، باہر نکلتے ہیں دجال انہیں لقمہ تر کی طرح نگل لے گا ۔

آخر ایک بزرگ اس سے بحث و مناظرہ کے لئے نکلیں گے اورخاص اس کے لشکر میں پہنچ کر اس کی بابت دریافت کریں گے لوگوں کو اس کی باتیں شاق گزریں گی لہذا اس کے قتل کا فیصلہ کریں گے ،مگر چند افراد آڑے آکر یہ کہہ کر روک دیں گے کہ ہمارے خدا دجال کی ا
جازت کے بغیر اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے،

،چنانچہ اس بزرگ کو دجال کے دربار میں حاضر کیا جائے گا ۔جہاں پہنچ کر یہ بزرگ چلا اٹھے گا کہ میں نے پہچان لیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تیرے ہی خروج کی خبر دی تھی۔دجال اس خبر کو سنتے ہی آپے سے باہر ہوجائے گا اوراس کو قتل کرنے کا فیصلہ کرے گا درباری فوراً اس کے دو ٹکڑے کردیں گے،

دجال اپنے حواریوں سے کہے گا کہ اب اگر میں اس کو دوبارہ زندہ کردو تو کیا تم کو میری خدائی کا پختہ یقین ہو جائے گا ۔یہ دجالی گروپ کہے گا کہ ہم تو پہلے ہی سے آپ کو خدا مانتے ہوئے آرہے ہیں، البتہ اس معجزہ سے ہمارے یقین میں اور اضافہ ہو جائے گا ۔

دجال اس بزرگ کے دونوں ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے زندہ کرنے کی کوشش کرے گا ادھر وہ بزرگ بوجہ حکم الہی کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے اب تو مجھے اور زیادہ یقین آگیا کہ تو ہی دجال ملعون ہے وہ جھنجھلا کر دوبارہ انہیں ذبح کرنا چاہے گا لیکن اب اسکی قدرت سلب کر لی جائے گی دجال شرمندہ ہوکر انہیں اپنی جہنم میں جھونک دے گا لیکن یہ آگ ان کے لئے ٹھنڈی اور گلزار بن جائے گی،

۔اس کے بعد وہ شام کا رخ کرے گا لیکن دمشق پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مہدی علیہ السلام وہاں آچکے ہوں گے ۔دجال دنیا میں صرف چالیس دن رہے گا ایک دن ایک سال دوسرا ایک مہینہ اور تیسرا ایک ہفتہ کے برابر ہوگا بقیہ معمول کے مطابق ہوں گے،

امام مہدی علیہ السلام دمشق پہنچتے ہی زور وشور سے جنگ کی تیاری شروع کردیں گے لیکن صورتِ حال بظاہر دجال کے حق میں ہوگی،کیونکہ وہ اپنے مادی وافرادی طاقت کے بل پر پوری دنیا میںدھاک بٹھا چکا ہو گا اس لئے عسکری طاقت کے اعتبار سے تو اس کی شکست بظاہر مشکل ہو گی مگر اللہ کی تائید اور نصرت کا سب کو یقین ہوگا ۔

حضرت مہدی علیہ السلام اور تمام مسلمان اسی امید کے ساتھ دمشق میں دجال کے ساتھ جنگ کی تیاریوں میں ہوں گے ۔تمام مسلمان نمازوں کی ادائیگی دمشق کی قدیم شہرہ آفاق مسجد میں جامع اموی میں ادا کرتے ہوں گے ۔ ملی شیرازہ ،لشکر کی ترتیب اور یہودیوں کے خلاف صف بندی کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مہدی علیہ السلام دمشق میں اس کو اپنی فوجی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں گے۔ اور اس وقت یہی مقام ان کا ہیڈ کواٹر ہو گا۔امام مہدی علیہ السلام ایک دن نماز پڑھانے کے لئے مصلے کی طرف بڑھیں گے،تو عین اسی وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزو ل ہوگا،

نماز سے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔ پھر
آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے۔

پھر وہ صلیب کو توڑیں گے یعنی صلیب پرستی ختم کریں گے خنزیر کو قتل کر کے جنگ کا خاتمہ کریں گے اور اس کے بعد مال ودولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ ان کے نزدیک ایک سجدہ دنیا و مافیھا سے بہتر ہو گا ۔

(مسلم، ابن ماجہ، ابوداود، ترمذی، طبرانی، حاکم، احمد)

(یادرھے کہ فتنہ دجال سے آگاھی تمام انبیاءعلیھم السلام کی سنت ھے جبکہ آج یہ سنت مٹ چکی ھے
لھٰذااس سنت کوزندہ کرتےھوئے اس پوسٹ کوباربارپڑھیں اوردوسروں تک پہونچائیں )

Thursday, November 8, 2018

Talkh Hqiqt

تلخ حقیقت۔۔۔
گرلز پلیز غصہ نہیں کرنا۔۔
ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻣﺮﺩ ﺍﭨﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﯽ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻣﯿﮟ آذﺍﻥ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﮩﺖ ہوﺱ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ہوﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺣﺎﺟﺮﮦ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﺻﻔﺎ ﻭ ﻣﺮﻭﮦ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺳﻌﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺳﻨﺪﮪ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﻘﺘﻮﻟﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﺼﻤﺖ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﭻ ﮐﮩﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ہوس ﮐﮯ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ۔ ﻭﮦ ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ، ﺑﮩﻦ ، ﺑﯿﭩﯽ ، ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺤﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﺮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ہوﺱ ﮐﺎ ﭘﺠﺎﺭﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﮐﺮ ﻧﺎ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﯽ، ﺍﺏ ﻗﺼﻮﺭ ﺗﻮ ﮐﺘﮯ ﺑﻠﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﮨﯽ۔ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﮩﻦ، ﺑﯿﭩﯽ، ﺑﮩﻮ، ﺑﯿﻮﯼ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﻭﮐﻨﺎ ﭼﺎﺋﯿﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﺮﺩ ﺭﻭﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺗﻨﮓ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻃﻌﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻝ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺗﻮ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺳﮯ ﮐﺘﻮﮞ ﺑﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﯽ ﺩﺋﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ..
یہ پیغام میرا ان سب کے لئے ہے جو
کسی کی ماں بہن ہے...✌

Sunday, November 4, 2018

Bano Qudsia

بانو قدسیہ کا دل ہلا دینے والا مضمون

          *مرد_ھوس_کا_پجاری*

*جب عورت مرتی ھے اس کا جنازہ مرد اٹھاتا ھے ۔اس کو لحد میں یہی مرد اتارتا ھے ۔۔۔ پیدائش پر یہی مرد اس کے کان میں اذان دیتا ھے۔ باپ کے روپ میں سینے سے لگاتا ھے بھائی کے روپ میں تحفظ فراہم کرتا ھے اور شوہر کے روپ میں محبت دیتا ھے۔ اور بیٹے کی صورت میں اس کے قدموں میں اپنے لیے جنت تلاش کرتا ھے ۔۔۔ واقعی بہت ھوس کی نگاہ سے دیکھتا ھے ۔۔۔ ھوس بڑھتے بڑھتے ماں حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفا و مروہ کے درمیان سعی تک لے جاتی ھے ۔۔۔ اسی عورت کی پکار پر سندھ آپہنچتا ھے ۔۔۔ اسی عورت کی خاطر اندلس فتح کرتا ھے۔ اور اسی ھوس کی خاطر 80% مقتولین عورت کی عصمت کی حفاظت کی خاطر موت کی نیند سو جاتے ہیں۔ واقعی ''مرد ھوس کا پجاری ھے۔''*

*لیکن جب ھوا کی بیٹی کھلا بدن لیے، چست لباس پہنے باہر نکلتی ھے اور اسکو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ھے تو یہ واقعی ھوس کا پجاری بن جاتا ھے ۔۔۔ اور کیوں نا ھو؟؟*

*کھلا گوشت تو آخر کتے بلیوں کے لیے ھی ھوتا ھے ۔۔۔*

*جب عورت گھر سے باھر ھوس کے پجاریوں کا ایمان خراب کرنے نکلتی ھے۔ تو روکنے پر یہ آزاد خیال عورت مرد کو "تنگ نظر" اور "پتھر کے زمانہ کا" جیسے القابات سے نواز دیتی ھے کہ کھلے گوشت کی حفاظت نہیں کتوں بلوں کے منہ سینے چاہیے ھیں*

*ستر ہزار کا سیل فون ہاتھ میں لیکر تنگ شرٹ کے ساتھ پھٹی ھوئی جینز پہن کر ساڑھے چارہزار کا میک اپ چہرے پر لگا کر کھلے بالوں کو شانوں پر گرا کر انڈے کی شکل جیسا چشمہ لگا کر کھلے بال جب لڑکیاں گھر سے باہر نکل کر مرد کی ھوس بھری نظروں کی شکایت کریں تو انکو توپ کے آگے باندھ کر اڑادینا چاہئیے جو سیدھا یورپ و امریکہ میں جاگریں اور اپنے جیسی عورتوں کی حالت_زار دیکھیں جنکی عزت صرف بستر کی حد تک محدود ھے*

*"سنبھال اے بنت حوا اپنے شوخ مزاج کو*

*ھم نے سر_بازار حسن کو نیلام ھوتے دیکھا ھے"*
2

*مرد*

*میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انھیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ انھوں نے اپنے بچوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر خرچ ہورہا ھے اور ان کے بعد ھمارا کیا ھوگا؟ میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی جب ایک بازارعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا جن کے ھاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رھی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ھوگئی آپ نے کرتا خرید لیا اپ کوئی نئی چپل بھی خرید لیں جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کونسی روز پہنی ھے جو خراب ھوگئی ھوگی، تم دیکھ لو اور کیا لینا ھے بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاو گی۔ ابھی میں ساتھ ھوں جو خریدنا ھے آج ھی خرید لو۔*
*میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کے لئے بھی تحفہ لایا، میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔ میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا جب اس کی جوان بیٹی گھر اجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ھوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ ابھی میں زندہ ھوں لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ھوتی ھوئی آنکھیں بتارھی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ھوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے لیکن یہ جملہ کہ مرد کبھی روتا نہیں ھے اسے رونے نہیں دیگا۔*

۔ ( *بانو قدسیہ*)
کاپی

Lesson